بھج انہدامی کارروائی: جمعیۃ علماء ہند کا انتظامیہ سے سخت احتجاج، قانونی چارہ جوئی کے لیے وکلا پینل قائم
وفد نے متعلقہ سرکاری دستاویزات کا جائزہ لیا جبکہ مقامی سرپنچ عبداللطیف کیور کے اس الزام کو بھی نوٹ کیا کہ بعض نوٹسوں پر ان کے جعلی دستخط کیے گئے، جس پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
وفد کو دنارا، کھاوڑا اور توگا میں یہ بھی بتایا گیا کہ توگا کی مسجد کو مختصر مہلت کے بعد منہدم کر دیا گیا جبکہ اس سے قبل آدی پور (کنڈلا) کی ایک مسجد بھی انہدامی کارروائی کا نشانہ بن چکی ہے۔ وفد نے متاثرین کو یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء ہند انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔
اس موقع پر مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ ضلع کچھ سے جمعیۃ علماء ہند کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2001 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی جمعیۃ علماء ہند نے سب سے پہلے امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں، سیکڑوں مکانات تعمیر کیے تھے اور جمعیۃ چلڈرن ولیج جیسے تعلیمی و فلاحی ادارے قائم کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسی دیرینہ تعلق اور انسانی ذمہ داری کے تحت تنظیم آج بھی متاثرہ عوام کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھے گی۔




