حکومت و الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا بلاک کی 23 پارٹیاں متحد، چیف جسٹس سوریہ کانت کو لکھی چٹھی منظر عام پر
سی جے آئی سوریہ کانت کو خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’جب ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں تو جمہوریت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کا اداروں پراعتماد برقرار رہے۔‘‘
ہندوستان میں انتخابی عمل سے متعلق اپوزیشن نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ 28 جون کو انڈیا بلاک میں شامل 23 اپوزیشن پارٹیوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو اس بارے میں ایک مشترکہ خط لکھا ہے، جو اب منظر عام پر آ گیا ہے۔ یہ خط کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کو تحریر کردہ اس خط میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل، الیکشن کمیشن کے مبینہ جانبدارانہ کردار اور انتخابات سے متعلق دیگر معاملات پر عدالتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں اپوزیشن پارٹیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک کا انتخابی جمہوری نظام سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کو انتظامیہ کی زیادتیوں سے محفوظ رکھے اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے۔ اس خط پر ڈی ایم کے نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ڈی ایم کے کی جانب سے تروچی شیوا کا دستخط نظر آ رہا ہے۔
انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہم تمام یکساں نظریات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم بی جے پی کے سخت مخالف ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ کئی معاملات میں تو نتائج عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتے۔‘‘ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن کی تشکیل ہمیشہ برسر اقتدار حکومت کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔ 2014 سے پہلے چند استثنائی معاملات کو چھوڑ دیا جائے تو کم ہی ایسے مواقع آئے جب کمیشن کے ارکان کی دیانت داری پر سوال اٹھے ہوں، لیکن 2014 کے بعد سے حکومت کی جانب سے تقریباً ہر تقرری ایسے افراد کی ہوئی ہے جو حکومت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور بظاہر حکومت کے اشاروں پر انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کے لیے کھلے عام کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
خط میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’ہماری سب سے بڑی تشویش الیکشن کمیشن، بالخصوص چیف الیکشن کمشنر کے جانبدارانہ رویے کو لے کر ہے۔ انتخابی عمل اور نتائج کے دوران بی جے پی کی کھلے عام اور بے خوف حمایت کی گئی ہے۔ کمیشن نے برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی نہ کر کے اپنی غیر جانبداری کو مجروح کیا ہے، جبکہ اپوزیشن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کئی مواقع پر جب بی جے پی لیڈران ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے تھے، تب بھی کمیشن خاموش رہا۔‘‘ خط میں مزید گیا ہے کہ ’’جب ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں تو جمہوریت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد برقرار رہے، اور اس کے لیے اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ ہم عدلیہ پر سوال نہیں اٹھا رہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تمام نظام ناکام ہو جاتے ہیں تو ہم عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بھی ناکام ہو جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس کے پاس جائیں؟ یہ سوال ہم آپ کے غور و فکر کے لیے چھوڑتے ہیں۔‘‘
اس سے قبل جون کے آخر میں کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعہ ایس آئی آر، ووٹ چوری کے الزامات اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق چیف جسٹس کو خط لکھنے کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس خط کا مقصد الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل اور انتخابات سے متعلق دیگر معاملات کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔





