سی بی آئی اس معاملے کی جانچ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مقدمہ 25 مارچ کو درج کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ملزموں نے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو فرضی قانونی کارروائی اور نام نہاد ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھا کر دو کروڑ سات لاکھ روپے اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔
جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم پہلے ایک ٹرسٹ کے نام پر کھولے گئے بینک کھاتے میں منتقل کی گئی، جس کے بعد اسے مختلف بینک کھاتوں کے ذریعے گھما کر آگے بھیجا گیا تاکہ رقم کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔




