’بی کے ٹی سی‘ کے صدر ہیمنت دویدی نے کہا کہ ’’تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا۔ اگر کوئی ملازم اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔‘‘
ایودھیا کے رام مندر میں عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کے درمیان اب اتراکھنڈ کے بدری ناتھ دھام کے حوالے سے بھی اسی طرح کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
’بی کے ٹی سی‘ کے صدر ہیمنت دویدی نے انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے بات چیت میں کہا کہ کمیٹی نے ان الزامات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ معاملہ کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت سے جڑا ہے، اس لیے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات دی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا۔ اگر کوئی ملازم اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
اس دوران سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ’بی کے ٹی سی‘ کے صدر کا ذاتی معاون اس مبینہ غبن میں ملوث ہے۔ اس پر ہیمنت دویدی نے کہا کہ ’’میرا کوئی ذاتی سکریٹری نہیں ہے۔ جس شخص کا نام لیا جا رہا ہے، وہ بی کے ٹی سی کا مستقل ملازم ہے اور اس سے پہلے بھی 3 صدور کے ساتھ ذاتی سکریٹری کے طور پر کام کر چکا ہے۔ اگر تحقیقات میں الزامات درست پائے جاتے ہیں تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔‘‘
بی کے ٹی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سوہن سنگھ رنگر نے بتایا کہ جمعہ (3 جولائی) کو بدری ناتھ مندر کے احاطے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا، لیکن اب تک کسی قسم کی ٹھوس بے ضابطگی سامنے نہیں آئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی طرح کی مالی بے ضابطگی یا قوانین کی خلاف ورزی کے ثبوت ملتے ہیں تو شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی ایکٹ، 1939 اور ملازمین کے ضابطۂ اخلاق کے قواعد کے تحت متعلقہ افراد کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





