صارفین کی رازداری کے لیے واٹس ایپ ’یوزر نیم‘ فیچر لا رہی تھی، لیکن رول آؤٹ سے پہلے ہی اس پر روک لگ گئی ہے۔ حکومت نے میٹا سے اس فیچر کو رول آؤٹ نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نوٹس بھیج کر جواب مانگا ہے۔
واٹس ایپ کے ’یوزر نیم‘ فیچر پر روک لگانے کے بعد مرکز کی مودی حکومت ٹیلی گرام اور سگنل پر بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ ان دونوں ہی پلیٹ فارم پر پہلے سے ہی ’یوزر نیم‘ فیچر موجود ہے۔ اب آئی ٹی وزارت ان کو نوٹس بھیج کر اس فیچر سے متعلق جواب طلب کر سکتی ہے۔ حکومت یہ جاننا چاہ رہی ہے کہ اس فیچر میں صارف کی اصل شناخت کیسے یقینی کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرنا چاہتی ہے کہ کوئی شخص فرضی نام یا کسی دوسرے کی شناخت سے اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو گمراہ یا ٹھگی تو نہیں کر سکتا۔
قابل ذکر ہے کہ کچھ دن قبل ہی نیٹ پیپر لیک واقعہ میں نام سامنے آنے کے بعد ٹیلی گرام پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔ اب صارفین کی رازداری کے معاملہ میں سنجیدہ غور و فکر کا عمل جاری ہے۔ حکومت ٹیلی گرام اور سگنل سے جو سوال پوچھ سکتی ہے، وہ اس طرح ہیں:
-
یوزر نیم بنانے کا طریقہ کیا ہے؟
-
فرضی یا ملتے جلتے یوزر نیم کو روکنے کے لیے کیا طریقے ہیں؟
-
کسی حکومتی ادارہ، مشہور ہستی یا عام شخص کی شناخت کی نقل کیسے روکی جاتی ہے؟
-
شکایت ملنے پر فرضی یوزر نیم ہٹانے یا بلاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
-
لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ ضرورت پڑنے پر کس طرح تعاون کیا جاتا ہے؟
واضح رہے کہ صارفین کی رازداری کے لیے واٹس ایپ ’یوزر نیم‘ فیچر لا رہی تھی، لیکن رول آؤٹ سے پہلے ہی اس پر روک لگ گئی ہے۔ حکومت نے میٹا سے اس فیچر کو رول آؤٹ نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نوٹس بھیج کر 3 دنوں میں جواب مانگا ہے۔ حکومت نے فراڈ اور شناخت چھپا کر دھوکہ دہی کے معاملوں کے خوف سے اس کے خلاف سختی کی ہے۔ اس کے جواب میں واٹس ایپ نے کہا ہے کہ ابھی یہ فیچر رول آؤٹ نہیں کیا جا رہا ہے اور اس نے اس میں کئی سیکورٹی ترکیب کیے ہیں۔ واٹس ایپ نے ابھی اس فیچر کے لیے یوزر نیم ریزرو کرنا شروع کیا تھا۔
واٹس ایپ کو بھیجے گئے نوٹس میں حکومت نے کہا ہے کہ اس فیچر کی وجہ سے آن لائن فراڈ، فشنگ، ڈیجیٹل اریسٹ اور شناخت چھپا کر دھوکہ دہی کے معاملے بڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کو یہ بھی فکر ہے کہ اس فیچر کا غلط استعمال کر کے لوگ کسی شخص، سرکاری ادارہ، مالیاتی ادارہ اور سرکاری ایجنسیوں سے ملتے جلتے نام ریزرو کر سکتے ہیں۔ اس سے صارفین کے لیے اصلی اور نقلی میں شناخت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سرکاری افسر نے کہا کہ سائبر کریمنل پہلے ہی واٹس ایپ کے ذریعہ ڈیجیٹل اریسٹ جیسے فراڈ کو انجام دے رہے ہیں۔ یہ فیچر ان کی مزید مدد کر سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





