راجستھان: نابالغ سے اجتماعی عصمت دری معاملے میں بڑی کارروائی، گناہ میں شامل 4 ہوٹلوں پر چلا بلڈوزر
13 سالہ معصوم لڑکی کو مسلسل 5 دنوں تک شہر کے مختلف ہوٹلوں میں لے جایا گیا، جہاں 30 سے زائد مردوں نے اس کے ساتھ وحشیانہ طور پر جنسی زیادتی کی۔


i
راجستھان کے شری گنگا نگر ضلع سے انسانیت کو شرمسار کر دینے والا ایک بے حد خوفناک اور گھناؤنا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک 13 سالہ نابالغ معصوم لڑکی کو اغوا کر کے 5 دنوں تک 30 سے زائد درندوں نے اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا۔ اس رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعہ کے سامنے آنے کے بعد پورے ملک میں شدید غصہ ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور پولیس نے اس گھناؤنے جرم کی پشت پناہی کرنے والے اور اس میں شامل مجرمان کے خلاف انتہائی سخت قدم اٹھایا ہے۔ منگل (30 جون) کی رات کو ہی بھاری تعداد میں پولیس فورسز کے ساتھ بلڈوزر تعینات کیے گئے اور اس گناہ میں شریک رہے 4 ہوٹلوں کو منہدم کر دیا گیا۔
شری گنگا نگر کے ایس پی ہری شنکر نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا اور انہیں قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دلائی جائے گی۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں اس خوفناک سازش کی جو پرتیں کھلی ہیں وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔ معصوم لڑکی 18 جون کو اچانک اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی، جس کی تلاش اس کے اہل خانہ کر رہے تھے۔ شہر کے ہی ایک رکشہ چلانے والے نے راستے سے معصوم کا اغوا کر لیا اور چند پیسوں کے لالچ می ںاسے شہر کے ایک ہوٹل مالک کو فروخت کر دیا۔ اس کے بعد درندگی کا وہ دور شروع ہوا جس نے ہر سننے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لڑکی کو مسلسل 5 دنوں تک شہر کے مختلف ہوٹلوں میں لے جایا گیا، جہاں 30 سے زائد مردوں نے اس کے ساتھ وحشیانہ طور پر جنسی زیادتی کی۔
تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق معصوم کی چیخیں دبانے اور اپنی ہوس کا شکار بنانے کے لیے ملزمان نے اسے جبراً شراب پینے پر مجبور کیا۔ ان مسلسل حملوں، ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد کے باعث معصوم بچی کی حالت انتہائی نازک ہو گئی اور وہ شدید طور پر بیمار پڑ گئی۔ پولیس تفتیش میں یہ سنسنی خیز سچ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی ہوٹلوں کے مالک اور مینیجر نہ صرف اس سنگین جرم میں براہ راست ملوث تھے، بلکہ وہ پوری طرح سے اس گھناؤنے واقعے کو دبانے اور ثبوت مٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے تابڑتوڑ کارروائی کرتے ہوئے اب تک 12 مجرمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایس پی ہری شنکر نے بتایا کہ واقعہ میں شامل باقی بچے درندوں اور مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے پولیس کی کئی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو مسلسل چھاپے مار کر تفتیش کو تیز کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اجتماعی عصمت دری کے اس واقعے نے پورے راجستھان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے کی مخالفت میں مقامی لوگ اور سماجی تنظیمیں سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ شدید احتجاج کر رہے لوگوں کا الزام ہے کہ مقامی انتظامیہ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے اور ایسے واقعات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے وارننگ دی ہے کہ وہ تب تک اپنی تحریک بند نہیں کریں گے جب تک اس گھناؤنے جرم میں شامل 30 سے زائد ملزمان اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ہوٹل مالکان کو پھانسی کی سزا نہیں مل جاتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





