News

بی جے پی ایم پی نے اپنے ہی ایم ایل اے پر الزام لگایا کہ انہیں پہلی صف میں بیٹھنے سے روکا!

بی جے پی کی ایم پی میدھا کلکرنی نے الزام لگایا کہ ابھیمنیو پوار نے ذات پات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب مراٹھا برادری کے لیے ہے۔ اس لئے میرا اگلی صف میں بیٹھنا تنازعہ کا باعث بن سکتا ہے۔



<div class="پیراگراف">
<p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

مہاراشٹرسے بی جے پی کی راجیہ سبھا ایم پی میدھا کلکرنی نے ان کی اپنی پارٹی کے ایم ایل اے ابھیمنیو پوار پر الزام لگایا کہ انہوں نے پونے میں مراٹھا امیدواروں کے لیے ایک مبارکبادی تقریب کے دوران انہیں اگلی صف میں بیٹھنے سے روکا کیونکہ وہ برہمن ہیں۔

وزیر اعلی دیویندر فڈنویس بھی اس تقریب میں موجود تھے، جہاں یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC)، مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC) اور دیگر مسابقتی امتحانات کے کامیاب مراٹھا امیدواروں کو اعزاز سے نوازا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق میدھا کلکرنی نے صحافیوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ابھیمنیو پوار نے انہیں اگلی قطار میں بیٹھنے سے روکا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ تقریب مراٹھا برادری کا ہے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اس واقعے کے فوراً بعد وہ تقریب چھوڑ کر چلی گئی۔

انہوں نے کہا، “کوئی دیگر ممبران پارلیمنٹ موجود نہیں تھے۔ اس لیے حکام کا خیال تھا کہ پروٹوکول کے لیے مجھے اگلی صف میں بیٹھنا تھا۔ انا صاحب پاٹل آرتھک ماگاس وکاس مہامنڈل کے چیئرمین نریندر پاٹل بھی اگلی صف میں بیٹھنے کے حقدار تھے۔”میدھا کلکرنی نے کہا، “سچ یہ ہے کہ ابھیمنیو پوار خود اگلی صف میں بیٹھنا چاہتے تھے۔ جب عہدیداروں نے کہا کہ پروٹوکول میں مجھے وہاں بیٹھنا ہے، تو پوار نے ذات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب مراٹھا برادری کے لیے ہے۔ اس لیے میرا اگلی صف میں بیٹھنا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے۔”

دریں اثنا، ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے، لاتور ضلع کے اوسا اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے ابھیمنیو پوار نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی ذات پات کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک غلط فہمی تھی۔ انہوں نے کہا، “میں نے صرف یہ کہا کہ نریندر پاٹل مہامنڈل کے چیئرمین ہیں، اس لیے وہ پہلی قطار میں بیٹھ سکتے ہیں۔ ایم ایل اے اور ایم پی دوسری قطار میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اس میں ذات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ موجود تھےجنہوں نے میری بات سنی ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *