تیج پرتاپ یادو کے ڈرائیور انل یادو کی بیوی رنجو دیوی نے دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے کہ موتی لال کے خاندان نے اسے دھمکی دی ہے۔
بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) موتی لال رائے کے خلاف پٹنہ کے سکریٹریٹ پولیس اسٹیشن میں ایک تحریری شکایت درج کرائی ہے، جس میں ان پر نقدی اور دیگر قیمتی سامان چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔اب اس معاملے میں ایک نیا تنازعہ سامنے آیا۔
تیج پرتاپ یادو کے ڈرائیور انل یادو کی بیوی رنجو دیوی پولس اسٹیشن پہنچی۔ رنجو نے بتایا کہ موتی لال رائے کی طرف سے تیج پرتاپ یادو کے گھر میں کی گئی چوری میں اس کے شوہر کو بطور گواہ نامزد کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے موتی لال کی بیوی، بہنوئی اور سسر کل رات آئے اور اسے گواہی نہ دینے کی دھمکی دی۔ وہ اس معاملے کے سلسلے میں تھانے آئی ہے۔
رنجو دیوی نے کہا کہ دھمکیاں ملنے پر وہ خود کو بچانے کے لیے وہ تھانے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا، کہ موتی لال کی بیوی نے دھمکی دی ہے کہ اگر انل بھائی (تیج پرتاپ کا ڈرائیور)نے موتی لال کے خلاف مقدمے میں گواہی دی تو وہ پورے خاندان کو ل کو اٹھوا لیں گے۔
واضح رہے کہ تیج پرتاپ یادو نے موتی لال کے خلاف پولیس اسٹیشن میں چوری کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ اسٹیشن انچارج کو دی گئی درخواست میں تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ موتی لال رائے نے ان کی رہائش گاہ سے تقریباً 20 لاکھ روپے کی نقدی اور دیگر قیمتی چیزیں چوری کی ہیں۔ موتی لال ان کے ذاتی معاون کے طور پر کام کرتے تھے۔
شکایت کے مطابق، چوری شدہ اشیاء میں ایک 2 تولہ سونے کی چین، ایک سونے کی انگوٹھی، چار سونی پین ڈرائیوز، دو ہارڈ ڈسک، ایک آئی پیڈ، ایک میک بک لیپ ٹاپ، ایک لینووو لیپ ٹاپ، اور چار آئی فون 17 پرو میکس موبائل فون شامل ہیں۔ درخواست میں تیج پرتاپ یادو نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ 22 جون 2026 کی رات کو پیش آیا۔
دریں اثنا، موتی لال رائے کی بیوی پریتی بھارتی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ پریتی بھارتی نے بھی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی، جس میں ان کے اہل خانہ پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد جن شکتی جنتا دل کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر تیج پرتاپ یادو نے اپنے سابق پرسنل اسسٹنٹ اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری موتی لال رائے کو فوری اثر سے پارٹی سے نکال دیا۔





