’امر اجالا‘ کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب چوری کا پردہ فاش ہوگیا تو ٹرسٹ کے عہدیدار یہ جانچ کر رہے تھے کہ میڈیا تک خبر کس نے پہنچائی۔ ان کے اپنے ہی کئی ملازمین اور افسران پر شک تھا۔ وہ چوری کرنے والوں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کے بجائے واردات کی اطلاع مندر احاطے کے باہر کیسے پہنچی، اس پر پورا زور لگائے ہوئے تھے۔




