News

یو جی سی-نیٹ 2026: انگریزی کے 67 سوالات 2024 کے پیپر سے کاپی پیسٹ ہونے کا دعویٰ!

امیدواروں کا کا کہنا ہے کہ یو جی سی نیٹ 2026 کے انگریزی کے پیپر میں مجموعی طور پر 150 سوالات پوچھے گئے، جن میں سے 67 سوالات ایسے تھے جو یو جی سی نیٹ 2024 کے انگریزی کے پرچے میں بھی پوچھے جا چکے تھے۔

امتحان، علامتی تصویر آئی اے این ایسامتحان، علامتی تصویر آئی اے این ایس

i

صارف
google_preferred_badge

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے حال ہی میں یو جی سی نیٹ 2026 کا انعقاد کیا، جس کے تحت 87 مضامین کے امتحانات کامیابی کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ لیکن یو جی سی نیٹ کے کچھ مضامین کے پیپرز کو لے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر یو جی سی نیٹ 2026 کے انگریزی اور سماجیات کے پیپرز میں پوچھے گئے سوالات پر امیدوار کھل کر اعتراضات کر رہے ہیں اور اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی امیدوار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یو جی سی نیٹ 2026 کے انگریزی کے پیپر میں شامل سوالات 2024 کے یو جی سی نیٹ کے پیپر سے کاپی پیسٹ کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب متعدد امیدواروں کا کہنا ہے کہ یو جی سی نیٹ 2026 کے سماجیات کے پیپر میں نصاب سے باہر سوالات پوچھے گئے ہیں، جس کے بعد اس معاملے نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ یو جی سی نیٹ جون 2026 کا امتحان 22 جون سے 30 جون تک 2 شفٹ میں منعقد کیا گیا تھا۔ پہلی شفٹ صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جبکہ دوسری شفٹ دوپہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہی۔ آئیے ذیل میں پورے معاملے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

انگریزی کے 67 سوالات کاپی پیسٹ

امیدواروں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یو جی سی نیٹ 2026 کے انگریزی کے پیپر میں سوالات کاپی پیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یو جی سی نیٹ 2026 کے انگریزی کے پیپر میں مجموعی طور پر 150 سوالات پوچھے گئے تھے، جن میں سے 67 سوالات ایسے تھے جو یو جی سی نیٹ 2024 کے انگریزی کے پرچے میں بھی پوچھے جا چکے تھے۔ یعنی 2024 میں پوچھے گئے سوالات کو مبینہ طور پر کاپی پیسٹ کرکے 2026 کا پیپر تیار کیا گیا۔

سماجیات کے پیپر میں نصاب سے باہر سوالات

دوسری جانب امیدواروں نے یو جی سی نیٹ 2026 کے سماجیات کے پیپر پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ یو جی سی نیٹ 2026 کے سماجیات کے پرچے میں کئی سوالات مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیے گئے تھے، جو نصاب سے باہر تھے۔ مثال کے طور پر ایسے مفکرین اور کتابوں سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کا مقررہ نصاب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس کے علاوہ امیدواروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پرچے میں بڑی تعداد میں املا اور قواعد کی غلطیاں بھی موجود تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی معروف ماہرینِ سماجیات کے نام بھی غلط درج کیے گئے، مثلاً رٹزر کی جگہ پٹزر، پارسنز کی جگہ پارسو، گھریے کی جگہ گھنیے، اے آر دیسائی کی جگہ اے کے دیسائی اور نسبام کی جگہ نسباؤٹ لکھا گیا۔ ساتھ اہی امیدواروں نے پیپر کے ہندی ترجمے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی سوالات کا ترجمہ اتنا غلط تھا کہ سوال سمجھنا ہی مشکل ہو گیا، جس کے باعث درست جواب دینا بھی دشوار ہو گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *