اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم مانے جانے والے ’سبانگ‘ بندرگاہ کو ہندوستان اور انڈونیشیا اب مشترکہ طور پر مل کر تیار کریں گے۔ یہ خاص بندرگاہ براہ راست آبنائے ملاکا (اسٹریٹ آف ملاکا) کی نگرانی کرتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے انڈونیشیا دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاع، تجارت، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور انتخابی نظام جیسے شعبوں میں کئی بڑے معاہدے ہوئے ہیں۔ ہندوستان-انڈونیشیا کی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے والے ان معاہدوں میں دفاعی میزائلوں کی درآمد، معدنی سپلائی چین میں سرمایہ کاری اور انتخابی انتظام میں تعاون شامل ہے۔ ساتھ ہی ’سبانگ‘ بندرگاہ کی مشترکہ ترقی سے علاقائی سیکورٹی اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ہندوستان-انڈونیشیا اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندی دینے والا مانا جا رہا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دو فریقی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے دفاع، ٹیکنالوجی اور معدنی سپلائی چین کے شعبے میں کئی بڑے پالیسی معاہدوں پر مہر لگی ہے۔ ہندوستان کے کامیاب انتخابی نظام کے ماڈل کی حمایت کرتے ہوئے انڈونیشیا اب اپنے ملک کے لیے خصوصی ای وی ایم تیار کرنے میں ہندوستان کی مدد لے گا۔ اس کے علاوہ ’آپریشن سندور‘ میں ہندوستانی فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی صلاحیت کی مؤثر کامیابی کو دیکھتے ہوئے انڈونیشیائی حکومت نے ہندوستان سے ’استر‘ میزائلیں درآمد کرنے کا ایک بڑا اسٹریٹجک فیصلہ لیا ہے۔
اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چین کو مکمل طور پر مضبوط بنانے کے مقصد سے ہندوستان اب انڈونیشیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ اس دو فریقی اقتصادی معاہدے کے تحت ہندوستان وہاں اسٹیل، نکل اور نایاب زمینی مستقل مقناطیس (ریئر ارتھ پرماننٹ میگنیٹ) کی مقامی مینیوفیکچرنگ صنعتوں کے قیام میں اپنی اہم سرمایہ کاری کا اشتراک کرے گا۔
’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو ایک نئی بلندی دیتے ہوئے انڈونیشیا اپنے دفاعی بیڑے میں ہندوستان کے مشہور ’براہموس‘ کے موجودہ ذخیرے (انوینٹری) کو وسعت دے رہا ہے۔ اس اسٹریٹجک وسعت کو رفتار دینے کے لیے ہندوستان اب انڈونیشیا کو میزائل آپریشنز کے لیے مزید بیٹریاں فراہم کر کے اپنا مکمل تعاون دے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم مانے جانے والے ’سبانگ‘ بندرگاہ کو ہندوستان اور انڈونیشیا اب مشترکہ طور پر مل کر تیار کریں گے۔ یہ خاص بندرگاہ براہ راست آبنائے ملاکا (اسٹریٹ آف ملاکا) کی نگرانی کرتا ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ جگہ ہندوستان کے اپنے ’گریٹ نکوبار پورٹ پروجیکٹ‘ سے محض 100 میل کی دوری پر واقع ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





